• Skip to primary navigation
  • Skip to main content

دانی ایل کی پیش گوئیاں

  • български
  • Magyar
  • Română
  • Bahasa Indonesia
  • Türkçe
  • العربية
  • हिन्दी
  • 中文 (中国)
  • Русский
  • Deutsch
  • Italiano
  • Français
  • Português
  • Español
  • English
  • ہوم پیج
  • مارک کے بارے میں
  • سوالات
  • دانی ایل نبی
  • Show Search
Hide Search

Main Content

دانی ایل کی پیش گوئیاں
از: مارک مک ملین

دانی ایل کے خواب اور رویائیں

خوابوں اور رویاؤں میں دانی ایل نبی نے دنیا کے مستقبل کے حیرت انگیز مناظر دیکھے۔ دانی ایل کی پیش گوئیوں پر مبنی ان ویڈیوز میں، میں نے کوشش کی ہے کہ جو کچھ دانی ایل نے دیکھا اسے بصری طور پر دوبارہ پیش کروں اور اسے ایسے انداز میں بیان کروں جو بائبل کی پیش گوئیوں کے طلبہ صدیوں سے وسیع پیمانے پر قبول کرتے آ رہے ہیں۔

حکمت بنیادی چیز ہے۔

جون 8, 2026 · by Mark McMillion · In: Uncategorized

چند دن پہلے میری ایک نوجوان سے بات ہوئی جو جوانی کی دہلیز پر تھا۔ وہ ایک سمجھدار خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور اپنی زندگی کے بارے میں کچھ بڑے فیصلے کرنے کے مرحلے میں ہے۔ اس سے پہلے میری اس کے ساتھ کبھی کوئی گہری گفتگو نہیں ہوئی تھی، اور ہمارے پاس بات کرنے کے لیے زیادہ وقت بھی نہیں تھا۔ لیکن جتنے چند لمحے مجھے اس کے ساتھ ملے، میں نے محسوس کیا کہ مجھے اس سے حِکمت کی اہمیت کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔

معاف کیجیے گا، صاف لفظوں میں کہوں تو زندگی آسان نہیں ہوتی—کم از کم بعض اوقات تو بالکل نہیں۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یونیورسٹی میں جو کچھ بھی سیکھا جائے، چاہے وہ کوئی بھی ہو، وہ حقیقت میں ہمیں “زندگی کے مسائل” کے لیے تیار نہیں کرتا (امثال 4:23) جیسا کہ سلیمان نے کہا۔ میرے لیے یونیورسٹی علم کے بارے میں تھی، اور علم حِکمت کے مقابلے میں کہیں کم قیمتی ہے۔ اس زندگی کی حیرت انگیز باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ حکمت کتنی اہم (اور بعض اوقات کتنی مشکل سے ملنے والی) ہے، جبکہ علم نسبتاً کم اہمیت رکھتا ہے۔ اپنے دِل کی خُوب حِفاظت کر کیونکہ زِندگی کا سرچشمہ وُہی ہے۔

لیکن جدید دنیا میں معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ ذہانت اور عقل کو گویا پوجا جاتا ہے، انہیں بہت بلند مقام دیا جاتا ہے اور ہر قیمت پر حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر حِکمت کو تقریباً یوں نظر انداز کر دیا گیا ہے جیسے اسے کوڑے دان میں پھینک دیا گیا ہو—بالکل سچائی کی طرح۔ لوگ کہتے ہیں کہ سچائی تو نسبتی ہے، دراصل کوئی مطلق سچائی ہے ہی نہیں۔ اور حکمت بھی مشکوک سی چیز بن گئی ہے، جس کا مہذب محفلوں میں کم ہی ذکر ہوتا ہے۔

لیکن وہ نوجوان میرے سامنے بیٹھا تھا، اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں اس سے وہی بات کہوں جو تقریباً تین ہزار سال پہلے سلیمان نے اپنے بیٹے سے کہی تھی:

(امثال 4:7) “حِکمت افضل اصل ہے۔ پس حِکمت حاصِل کر بلکہ اپنے تمام حاصِلات سے فہم حاصِل کر”

کیا آپ کی یونیورسٹی میں “حِکمت 101” نام کی کوئی کلاس تھی؟ مجھے تو ایسا نہیں لگتا۔ یہ خدا کا بڑا فضل تھا کہ میں یونیورسٹی کے زمانے میں نہ مرا، نہ قید ہوا، اور نہ ہی کسی ذہنی اسپتال میں جا پہنچا۔ میں اس قدر بے حِکمت تھا، گویا سراسر جہالت میں چل رہا تھا۔ سلیمان کے الفاظ میں: (امثال 9:10) “خُداوند کا خَوف حِکمت کا شرُوع ہے” اور اُس وقت نہ میرے دل میں خداوند کا خوف تھا اور نہ ہی اُس کا علم۔آج کل بھی نوجوانوں میں یہ بات کم ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ علم اور “تعلیم” کو اس دور کے خدا بنا لیا گیا ہے۔ لیکن حِکمت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے، جیسے یہ کوئی ایسی چیز ہو جو دراصل موجود ہی نہیں۔

پس میں اپنے اُس نوجوان دوست کو حِکمت کی اہمیت کے بارے میں بتا رہا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حِکمت اُس وقت ظاہر ہوتی ہے جب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم نے کوئی غلطی کی ہے—کبھی کبھی بڑی غلطی۔ لوگ کہتے ہیں، “ہم اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں”، اور یہی حِکمت ہو سکتی ہے۔ اور یہی حِکمت ایک کامیاب، بابرکت اور اطمینان بخش زندگی کا سبب بنتی ہے۔

آخر نیلسن منڈیلاکو عظیم کس چیز نے بنایا؟ کیا صرف علم؟ میرا خیال ہے ایسا نہیں۔ مجھے ان کے الفاظ ٹھیک ٹھیک یاد نہیں، مگر انہوں نے کچھ یوں کہا تھا کہ جب وہ 26 سال قید کے بعد جیل سے باہر آئے، تو انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ اُن لوگوں کو معاف نہ کرتے اور جو کچھ اُن کے ساتھ ہوا تھا اسے دل سے نہ نکالتے، تو ایک حقیقی معنوں میں وہ اب بھی قید ہی میں ہوتے۔

اس نے یہ کہاں سے سیکھا؟ کیا یونیورسٹی سے؟ ہرگز نہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو تاریخ بھر کے عظیم روحانی راہنماؤں نے سکھائی ہیں۔ لیکن دوسری طرف، تاریخ ایسے “ذہین” اور “باصلاحیت” لوگوں (اور حتیٰ کہ قوموں) سے بھری پڑی ہے جو مکمل طور پر ناکام ہو گئے، کیونکہ وہ اپنی عقل پر تو بہت بھروسا رکھتے تھے، مگر حکمت سے بالکل خالی تھے۔

اور ظاہر ہے کہ میں یہاں خدا کی طرف سے آنے والی حکمت کی بات کر رہا ہوں۔ خود یسوع مسیح نے ایک دوسری قسم کی حِکمت کا ذکر کیا جب انہوں نے فرمایا: “اِس جہان کے فرزند اپنے ہم جِنسوں کے ساتھ مُعاملات میں نُور کے فرزندوں سے زِیادہ ہوشیار ہیں۔” (لوقا 16:8)۔ اور جیسے خداوند کے بھائی یعقوب نے کہا: “یہ حِکمت وہ نہیں جو اُوپر سے اُترتی ہے بلکہ دُنیَوی اور نفسانی اور شَیطانی ہے۔ ” (یعقوب 3:15)۔

نکولو میکیاولی کی کتاب “شہزادہ” یا مارکوئس ڈی ساڈ کی تحریریں اسی قسم کی “حکمت” سے بھری ہوئی ہیں—جیسے فلم “وال اسٹریٹ” میں گورڈن گیکو، یا باغِ عدن کا سانپ جو “میدان کے سب جانوروں سے زیادہ چالاک تھا” (پیدائش 3:1)۔ یہ دنیاوی اور شیطانی حِکمت ہے۔

مگر جو حِکمت اُوپر سے آتی ہے اوّل تو وہ پاک ہوتی ہے۔ پِھر مِلنسار حلِیم اور تربِیّت پذِیر۔ رَحم اور اچھّے پَھلوں سے لدی ہُوئی۔ بے طرف دار اور بے رِیا ہوتی ہے۔ (یعقوب 3:17)۔ یہ وہ حِکمت ہے جو نیلسن منڈیلا نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں حاصل کی، اور یہی وہ حِکمت ہے جس کی صدیوں سے عزت اور قدر کی جاتی رہی ہے، اگرچہ ہمارے زمانے میں یہ کم ہوتی جا رہی ہے اور اسے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

جب میں اس نوجوان سے بات کر رہا تھا تو میں اسے اپنی زندگی کا یہ تجربہ بتانے کی کوشش کر رہا تھا کہ “حِکمت افضل اصل  ہے” (امثال 4:7)۔ میں نے اسے بتایا کہ وہ ایک ملاح کی مانند ہے جو اپنے خاندان کی بندرگاہ سے نکل کر بالغ زندگی کے وسیع اور طوفانی سمندروں میں سفر شروع کرنے والا ہے۔میرا تجربہ یہ ہے کہ تعلیم اور علم یقیناً ضروری ہیں—اور یہ بات ہر کوئی کہتا ہے۔ مگر جو بات اب کم سننے کو ملتی ہے وہ حِکمت کی شدید ضرورت ہے، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ وہ میری بات یاد رکھے گا۔

ہجوم اور شاگرد

اکتوبر 30, 2025 · by Mark McMillion · In: Uncategorized

(متی 5:1) “اور جب اُس نے ہجوم کو دیکھا تو پہاڑ پر چڑھ گیا، اور جب وہ بیٹھ گیا تو اُس کے شاگرد اُس کے پاس آئے۔” یسوع نے اتنے بڑے ہجوم کو چھوڑ کر پہاڑ پر کیوں چڑھائی کی، جب اُس کے پاس اتنے لوگ موجود تھے؟ کیوں یہ نہیں لکھا کہ ہجوم اُس کے پاس آیا؟ کیا اس بات میں کوئی معنی پوشیدہ ہے کہ صرف اُس کے شاگرد ہی اُس کے پیچھے گئے؟

ظاہری طور پر یہ آیت عام سی معلوم ہوتی ہے، مگر غور سے دیکھنے پر اس میں ایک گہرا سبق پوشیدہ ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں ہجوم تو بہت رہا ہے—وہ لوگ جو یسوع میں محض دلچسپی لیتے ہیں—مگر اُن میں سے چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو حقیقت میں اُسے پہچانتے ہیں، اُسے قبول کرتے ہیں اور اُس کے ساتھ پہاڑ پر چڑھ جاتے ہیں۔ یہ منظر دو ہزار سالہ انسانی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ تقسیم صرف متی باب 5 میں نہیں دکھائی دیتی؛ انجیل یوحنا کے چھٹے باب میں بھی یہی فرق نمایاں ہے۔ وہاں یسوع نے پانچ ہزار مردوں (عورتوں اور بچوں کے علاوہ) کو معجزانہ طور پر چند روٹیوں اور مچھلیوں سے کھلایا۔ اُس کے بعد لوگوں نے اُسے زبردستی بادشاہ بنانے کی کوشش کی۔ اگلے دن وہی لوگ دوبارہ اُس کی تلاش میں سمندر پار جا پہنچے۔

مگر یسوع کبھی بھی ہجوم کے پیچھے نہیں بھاگا۔ اُس نے اُنہیں صاف صاف کہا، (یوحنا 6:53) “جب تک تم میرا گوشت نہ کھاؤ اور میرا خون نہ پیو، تم میں زندگی نہیں۔” یہ بات سن کر بہت سے لوگ واپس چلے گئے۔ جیسا کہ لکھا ہے، (یوحنا 6:66) “اس وقت سے اُس کے بہت سے شاگرد واپس چلے گئے اور اُس کے ساتھ نہ رہے۔” یوں لگتا ہے کہ اُس وقت یسوع کے پاس چند ہی لوگ باقی رہ گئے—صرف بارہ شاگرد اور شاید کچھ اور۔

آپ سوچ سکتے ہیں: “کیا یسوع نہیں چاہتا تھا کہ سب اُس پر ایمان لائیں؟ کیا وہ سب سے محبت نہیں کرتا تھا؟”

ہاں، مگر اصل سبق یہی ہے—ایمان لانے اور پیروی کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بہت سے لوگ یسوع کو دلچسپ شخصیت سمجھتے تھے، کچھ اُس پر یقین بھی رکھتے تھے، مگر کم ہی ایسے تھے جو سچ مچ اُس کے پیچھے چلے۔ جب اُس نے معجزات کیے، مردوں کو زندہ کیا، اندھوں کو بینائی دی، تب بھی اُس کے آسمان پر چڑھنے کے بعد صرف ایک سو بیس شاگرد بالا خانے میں جمع تھے (اعمال 1:15)۔

تو سوال وہی ہے: ہجوم یا شاگرد؟ آج بھی کیا یہی فرق نہیں؟ ہجوم بہت ہے—ایمان لانے والے، مگر عمل نہ کرنے والے۔ مگر شاگرد بہت کم ہیں—وہ جو اُس کے کلام پر چلتے ہیں، اپنی خواہشات کو قربان کرتے ہیں، اور خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔

جیسا کہ لکھا ہے: (اعمال 11:26) “شاگردوں کو پہلے انطاکیہ میں مسیحی کہا گیا۔” یعنی ابتدا میں “مسیحی” وہی تھے جو شاگرد تھے—عمل کرنے والے، پیروی کرنے والے، نہ کہ صرف سننے والے۔ یسوع آج بھی ہجوم سے محبت رکھتا ہے، مگر وہ اُنہیں دعوت دیتا ہے جو اُس کے ساتھ پہاڑ پر چڑھنے کو تیار ہیں—جہاں وہ اُنہیں اپنی قیمتی باتیں سکھاتا ہے اور اُنہیں معمولی زندگی سے بلند کرتا ہے۔

اُس نے کہا، (متی 9:37) “فصل تو بہت ہے مگر مزدور تھوڑے ہیں۔” آج بھی یہی سچ ہے۔ ایمان لانے والے بہت ہیں، مگر سچے شاگرد—جو اُس کے کلام پر عمل کرتے ہیں—بہت کم۔ بہت ہی کم۔

دانی ایل کی کتاب ، باب2

اکتوبر 15, 2025 · by Mark McMillion · In: Uncategorized

میں نے "دانی ایل کی پیش گوئیاں” سیریز میں دانی ایل کے باب 2 کی ویڈیو کا اُردو ترجمہ مکمل کر لیا ہے۔ اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور شمالی بھارت میں بھی بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہے۔

دانی ایل کے باب 2 کو تقریباً تمام مذاہب کے علما بائبل میں دنیا کی تاریخ اور مستقبل کی سب سے مختصر اور جامع تصویر قرار دیتے ہیں۔ یہ باب کئی حوالوں سے وہ بنیاد ہے جس پر ہم نہ صرف ماضی کی پوری ہونے والی پیش گوئیوں کو سمجھ سکتے ہیں بلکہ آنے والے وقت میں پوری ہونے والی پیش گوئیوں کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔

مجھے اکثر ایسا لگا ہے کہ دانی ایل کا باب 2 خدا کی طرف سے جان بوجھ کر نبوت کی راہ پر پہلا آسان قدم بنایا گیا ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے مزید ترقی یافتہ نبوتی ابواب، مثلاً دانی ایل باب 7، کے لیے تیاری ہو۔ وہ باب وہ جگہ ہے جہاں سے ہم واقعی نبوت کے پہاڑوں پر چڑھنا شروع کرتے ہیں۔

  • Page 1
  • Page 2
  • Next »

اس سائٹ کی ہمراہ سائٹ

پر، MarkMcMillion.com اس سائٹ کی ہمراہ سائٹ، میں اپنی ذاتی زندگی، نظریات اور تجربات کے بارے میں لکھتا ہوں، نیز وہ اسباق جو خداوند نے مجھے سکھائے ہیں اور وہ باتیں بھی جو میں نے اپنے قریب اور دور کے دوستوں سے سنی ہیں۔

Sign Up for Newsletter

Follow Mark

Copyright © 2026 · Website by Stormhill Media Log in