بادشاہ سلیمان نے لکھا: "ا پنے دِل کی خُوب حِفاظت کر کیونکہ زِندگی کا سرچشمہ وُہی ہے۔” (امثال 4:23)
انگریزی بائبل کے ایک جدید ترجمے میں ” کہ "اپنے دل کی حفاظت کرو” کے بجائے "رکھ”۔
تو میں سوچتا ہوں، اگر کسی نے مجھے یہ بات اُس وقت بتائی ہوتی جب میں 18 سال کا تھا تو کیا ہوتا؟ میں تو ملحد تھا، اس لیے شاید ہنس دیتا اور مذاق اُڑاتا۔ لیکن اگر میں سن بھی لیتا، تو میرا اصل مسئلہ "دل” کے لفظ سے ہوتا۔ میں شاید طنزیہ انداز میں پوچھتا، "دل آخر ہوتا کیا ہے؟” میری حالت واقعی ایسی ہی تھی۔
سچ تو یہ ہے کہ میں واقعی نہیں جانتا تھا کہ دل کیا ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ میرے جسم میں ایک دل ہے جو خون پمپ کرتا ہے، لیکن اس دوسرے دل کا تصور میرے لیے بہت مبہم تھا۔ اور اگر میں اس پر یقین بھی کر لیتا، تب بھی مجھے اس کی حقیقت کی بہت کم سمجھ تھی۔
اور آخر کیوں ہوتی؟ میری تقریباً ساری معلومات اسکول، ٹیلی ویژن، اخبارات اور جدید کتابوں سے آتی تھیں۔ کیا ان میں سے کسی نے کبھی مجھے بتایا کہ میرے اندر ایک دل بھی ہے؟ ہرگز نہیں۔ اُن کے نزدیک سب سے اہم چیز میرا ذہن تھا۔ مجھے اپنے ذہن کو ترقی دینی تھی، کیونکہ اُن کے مطابق اصل زندگی وہیں بسر ہو رہی تھی۔ اگر میرا ذہن غیر معمولی ہوتا، تو بس یہی کافی تھا۔ اگر کبھی دل کا ذکر سنتا بھی تھا تو صرف گانوں میں۔ گلوکار دل کی باتیں کرتے تھے، سو میں نے دل کے بارے میں چند خیالات وہیں سے سیکھے۔
لیکن حقیقت یہ تھی کہ میرے پاس واقعی ایک دل تھا—اور ایک روح اور جان بھی۔ مگر ان کی حالت بہت خراب تھی۔ میں نے اپنے دل کو اسپورٹس کاروں، خوبصورت عورتوں اور فیشن ایبل کپڑوں کی تصویروں سے بھر رکھا تھا۔ تقریباً چودہ سال کی عمر سے میرے کمرے کی دیوار پر ایک غیر ملکی اسپورٹس کار کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ حقیقت میں وہ ایک بُت بن چکی تھی، جسے میں گویا پوجتا تھا۔
وہ اسپورٹس کار میری زندگی کا مقصد بن گئی تھی، اور آخرکار بیس سال کی عمر میں مجھے وہ مل بھی گئی۔ مگر جیسا کہ بادشاہ داؤد نے خدا کے بارے میں کہا: ” اُس نے اُن کی مُراد تو
پوری کر دی، مگر اُن کی جان کو سُکھا دیا۔” (زبور 106:15) مجھے وہ چیز مل گئی جس کی میں خواہش کرتا تھا، لیکن وہ بالکل بے اطمینانی ثابت ہوئی۔ میرا دل غلط چیزوں سے بھرا ہوا تھا، اور اُس میں سب سے اہم ہستی موجود ہی نہیں تھی—یعنی یسوع مسیح۔
میرے معاملے میں میرے دل کے گناہوں، حماقت اور جہالت نے مجھے موت کے بالکل سامنے لا کھڑا کیا۔ یہی تجربہ، بلکہ اس سے بھی زیادہ، مجھے یہ سمجھانے کے لیے کافی تھا کہ واقعی ایک روحانی دنیا موجود ہے، جس کا میں برسوں مذاق اُڑاتا اور انکار کرتا رہا تھا۔ لیکن جہنم اور اُس کی ابدی ہولناکیوں کے اس تجربے کے ذریعے میں ابرہام کے خدا کو جاننے لگا، اور چند ہی مہینوں بعد اُس کے بیٹے، یسوع مسیح، کو بھی جان لیا۔
مجھے حیرت انگیز طور پر معلوم ہوا کہ میرے پاس ایک جان، ایک دل اور ایک روح بھی ہے۔ یہ سب میرے ذہن اور اس کی تعلیم سے کہیں زیادہ اہم تھے۔ شاید میں یہ سبق کسی اور طریقے سے کبھی نہ سیکھ پاتا۔ میں کسی کی بات سننے کے لیے تیار ہی نہیں تھا، اس لیے مجھے یہ سبق سخت راستے سے سیکھنا پڑا۔ لیکن میں نے سیکھ لیا۔ میں نے گرجا گھر کی تعلیم سے نہیں بلکہ اپنے ذاتی تجربے سے جان لیا کہ اصل بات آخرکار دل کی ہی ہوتی ہے۔خدا مجھے اُس مقام تک لے آیا تھا جس کا میں نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھا تھا، بلکہ جسے میں کبھی چاہتا بھی نہیں تھا۔ میری زندگی میں "نئے سرے سے پیدا ہونے” کا تجربہ ہوا۔ میری پرانی زندگی ختم ہو گئی، اور اب میں واقعی ایک "نیا مخلوق” بن چکا تھا۔
زبور 16:11 میں بادشاہ داؤد خداوند سے دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں: "تو مجھے زندگی کی راہ دکھائے گا۔” اب سوال یہ تھا کہ کیا میں اُس زندگی کی راہ پر چلوں گا جو وہ مجھے دکھائے گا؟ وہ مجھے مجبور نہیں کرنے والا تھا۔ فیصلہ میرا تھا۔ انتخاب میراتھا، اور یہی سب سے اہم بات تھی۔
یسوع نے ایک کسان کی مثال دی جو اپنے کھیت میں بیج بونے نکلا۔ اُنہوں نے فرمایا کہ کچھ بیج پتھریلی زمین پر گرے، کچھ کانٹوں اور جھاڑیوں میں، اور کچھ اچھی زمین پر جا گرے۔یہ سب ہمارے دل، خدا کے ساتھ ہمارے تعلق اور اُس کے کلام کے بارے میں تھا۔ یسوع نے فرمایا کہ مگر اچھّی زمِین کے وہ ہیں جو کلام کو سُن کر عُمدہ اور نیک دِل میں سنبھالے رہتے اور صبر سے پَھل لاتے ہیں۔” (لوقا 8:15)
ایک سچا اور نیک دل—ایسا دل نہیں جو پتھروں کی طرح سخت ہو؛ نہ ایسا دل جو اس دنیا کی فکروں، خواہشوں اور قدروں کی جھاڑیوں سے بھرا ہو؛ بلکہ ایسا دل جو خدا کی بھلائی کے لیے محفوظ، نگہبانی میں رکھا گیا ہو، تاکہ اُس میں خدا کی زندگی اور نیکی پھوٹ نکلے۔
امریکہ کے مشہور گلوکار جانی کیش کا ایک گیت ہے۔ بظاہر وہ اپنی محبوبہ یا بیوی کے لیے تھا، مگر اُس کے الفاظ بہت گہرے تھے۔ وہی گیت ہم بھی خداوند کے لیے گا سکتے ہیں، یا اُسے اپنی دعا بنا سکتے ہیں۔
"میں اپنے دل کی بڑی احتیاط سے نگہبانی کرتا ہوں، میں ہر وقت اپنی آنکھیں کھلی رکھتا ہوں، اور چونکہ تُو میرا ہے، اس لیے میں سیدھی راہ پر چلتا ہوں۔” وہ گاتا ہے
بس یہی درکار ہے۔ اگر تم "زندگی کی راہ” اختیار کرنا چاہتے ہو، تو ضروری ہے کہ "اپنے دل کی پوری مستعدی سے حفاظت کرو۔”
جواب دیں