• Skip to primary navigation
  • Skip to main content

دانی ایل کی پیش گوئیاں

  • български
  • Magyar
  • Română
  • Bahasa Indonesia
  • Türkçe
  • العربية
  • हिन्दी
  • 中文 (中国)
  • Русский
  • Deutsch
  • Italiano
  • Français
  • Português
  • Español
  • English
  • ہوم پیج
  • مارک کے بارے میں
  • سوالات
  • دانی ایل نبی
  • Show Search
Hide Search

Main Content

دانی ایل کی پیش گوئیاں
از: مارک مک ملین

دانی ایل کے خواب اور رویائیں

خوابوں اور رویاؤں میں دانی ایل نبی نے دنیا کے مستقبل کے حیرت انگیز مناظر دیکھے۔ دانی ایل کی پیش گوئیوں پر مبنی ان ویڈیوز میں، میں نے کوشش کی ہے کہ جو کچھ دانی ایل نے دیکھا اسے بصری طور پر دوبارہ پیش کروں اور اسے ایسے انداز میں بیان کروں جو بائبل کی پیش گوئیوں کے طلبہ صدیوں سے وسیع پیمانے پر قبول کرتے آ رہے ہیں۔

ہجوم اور شاگرد

اکتوبر 30, 2025 · by Mark McMillion · In: Uncategorized

(متی 5:1) “اور جب اُس نے ہجوم کو دیکھا تو پہاڑ پر چڑھ گیا، اور جب وہ بیٹھ گیا تو اُس کے شاگرد اُس کے پاس آئے۔” یسوع نے اتنے بڑے ہجوم کو چھوڑ کر پہاڑ پر کیوں چڑھائی کی، جب اُس کے پاس اتنے لوگ موجود تھے؟ کیوں یہ نہیں لکھا کہ ہجوم اُس کے پاس آیا؟ کیا اس بات میں کوئی معنی پوشیدہ ہے کہ صرف اُس کے شاگرد ہی اُس کے پیچھے گئے؟

ظاہری طور پر یہ آیت عام سی معلوم ہوتی ہے، مگر غور سے دیکھنے پر اس میں ایک گہرا سبق پوشیدہ ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں ہجوم تو بہت رہا ہے—وہ لوگ جو یسوع میں محض دلچسپی لیتے ہیں—مگر اُن میں سے چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو حقیقت میں اُسے پہچانتے ہیں، اُسے قبول کرتے ہیں اور اُس کے ساتھ پہاڑ پر چڑھ جاتے ہیں۔ یہ منظر دو ہزار سالہ انسانی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ تقسیم صرف متی باب 5 میں نہیں دکھائی دیتی؛ انجیل یوحنا کے چھٹے باب میں بھی یہی فرق نمایاں ہے۔ وہاں یسوع نے پانچ ہزار مردوں (عورتوں اور بچوں کے علاوہ) کو معجزانہ طور پر چند روٹیوں اور مچھلیوں سے کھلایا۔ اُس کے بعد لوگوں نے اُسے زبردستی بادشاہ بنانے کی کوشش کی۔ اگلے دن وہی لوگ دوبارہ اُس کی تلاش میں سمندر پار جا پہنچے۔

مگر یسوع کبھی بھی ہجوم کے پیچھے نہیں بھاگا۔ اُس نے اُنہیں صاف صاف کہا، (یوحنا 6:53) “جب تک تم میرا گوشت نہ کھاؤ اور میرا خون نہ پیو، تم میں زندگی نہیں۔” یہ بات سن کر بہت سے لوگ واپس چلے گئے۔ جیسا کہ لکھا ہے، (یوحنا 6:66) “اس وقت سے اُس کے بہت سے شاگرد واپس چلے گئے اور اُس کے ساتھ نہ رہے۔” یوں لگتا ہے کہ اُس وقت یسوع کے پاس چند ہی لوگ باقی رہ گئے—صرف بارہ شاگرد اور شاید کچھ اور۔

آپ سوچ سکتے ہیں: “کیا یسوع نہیں چاہتا تھا کہ سب اُس پر ایمان لائیں؟ کیا وہ سب سے محبت نہیں کرتا تھا؟”

ہاں، مگر اصل سبق یہی ہے—ایمان لانے اور پیروی کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بہت سے لوگ یسوع کو دلچسپ شخصیت سمجھتے تھے، کچھ اُس پر یقین بھی رکھتے تھے، مگر کم ہی ایسے تھے جو سچ مچ اُس کے پیچھے چلے۔ جب اُس نے معجزات کیے، مردوں کو زندہ کیا، اندھوں کو بینائی دی، تب بھی اُس کے آسمان پر چڑھنے کے بعد صرف ایک سو بیس شاگرد بالا خانے میں جمع تھے (اعمال 1:15)۔

تو سوال وہی ہے: ہجوم یا شاگرد؟ آج بھی کیا یہی فرق نہیں؟ ہجوم بہت ہے—ایمان لانے والے، مگر عمل نہ کرنے والے۔ مگر شاگرد بہت کم ہیں—وہ جو اُس کے کلام پر چلتے ہیں، اپنی خواہشات کو قربان کرتے ہیں، اور خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔

جیسا کہ لکھا ہے: (اعمال 11:26) “شاگردوں کو پہلے انطاکیہ میں مسیحی کہا گیا۔” یعنی ابتدا میں “مسیحی” وہی تھے جو شاگرد تھے—عمل کرنے والے، پیروی کرنے والے، نہ کہ صرف سننے والے۔ یسوع آج بھی ہجوم سے محبت رکھتا ہے، مگر وہ اُنہیں دعوت دیتا ہے جو اُس کے ساتھ پہاڑ پر چڑھنے کو تیار ہیں—جہاں وہ اُنہیں اپنی قیمتی باتیں سکھاتا ہے اور اُنہیں معمولی زندگی سے بلند کرتا ہے۔

اُس نے کہا، (متی 9:37) “فصل تو بہت ہے مگر مزدور تھوڑے ہیں۔” آج بھی یہی سچ ہے۔ ایمان لانے والے بہت ہیں، مگر سچے شاگرد—جو اُس کے کلام پر عمل کرتے ہیں—بہت کم۔ بہت ہی کم۔

دانی ایل کی کتاب ، باب2

اکتوبر 15, 2025 · by Mark McMillion · In: Uncategorized

میں نے "دانی ایل کی پیش گوئیاں” سیریز میں دانی ایل کے باب 2 کی ویڈیو کا اُردو ترجمہ مکمل کر لیا ہے۔ اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور شمالی بھارت میں بھی بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہے۔

دانی ایل کے باب 2 کو تقریباً تمام مذاہب کے علما بائبل میں دنیا کی تاریخ اور مستقبل کی سب سے مختصر اور جامع تصویر قرار دیتے ہیں۔ یہ باب کئی حوالوں سے وہ بنیاد ہے جس پر ہم نہ صرف ماضی کی پوری ہونے والی پیش گوئیوں کو سمجھ سکتے ہیں بلکہ آنے والے وقت میں پوری ہونے والی پیش گوئیوں کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔

مجھے اکثر ایسا لگا ہے کہ دانی ایل کا باب 2 خدا کی طرف سے جان بوجھ کر نبوت کی راہ پر پہلا آسان قدم بنایا گیا ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے مزید ترقی یافتہ نبوتی ابواب، مثلاً دانی ایل باب 7، کے لیے تیاری ہو۔ وہ باب وہ جگہ ہے جہاں سے ہم واقعی نبوت کے پہاڑوں پر چڑھنا شروع کرتے ہیں۔

کیا قدیم انبیاء واقعی موجود تھے؟

ستمبر 24, 2025 · by Mark McMillion · In: Uncategorized

مرقے کئی لوگوں نے مجھ سے زوردار انداز مںک کہا ہے کہ پاک کتابںں محض افسانے ہں ، جن کا کوئی تارییو حققتئ سے واسطہ نہں ۔ یناً لاکھوں لوگوں کو یہ بات بتائی گئی ہے اور شاید وہ اس پر یننے بھی رکھتے ہوں۔ مگر کاہ یہ درست ہے؟ کا، دانی ایل، یسعیاہ اور داؤد کی پشی گوئاےں محض گھڑھی ہوئی کہانائں ہں ؟ کاگ یہ چالاک لوگوں کی ایجاد ہں جنہوں نے انسانتز کو گمراہ اور غلام بنانے کے لےھ جھوٹ ایجاد کےہ؟
کچھ لوگوں کو یہ بات غرل حقیلے لگ سکتی ہے۔ مگر یندر مانےک، سنکڑنوں لاکھ لوگ اسی زاویےِ نظر سے چزپوں کو دیکھتے ہںی اور مجھے اکثر ایسے لوگوں کی طرف سے پغا مات ملتے ہںو۔ اور آخرکار، ہم واقعی کسےن جان سکتے ہںج؟ یہ تحریریں یسوع سے سکڑ وں سال پہلے کی ہں — بہت سُپُر قدیم تاریخ بہت سے لوگوں کے لے ۔ اس لےث یہ فرض کرنا آسان ہے کہ ٹھوس انداز مںی معلوم کرنے کا کوئی طریقہ نہںر۔ نتیجتاً لوگ یہ نتجہہ نکالتے ہںہ کہ یہ شاید کسی اور نسل، مذہب یا قوم نے ہماری نسل یا ایمان پر مسلط کردیا ہے۔ اور بعض یہ نتجہ نکالتے ہںر کہ یہ سب بالکل، مکمل طور پر فضول باتںر ہںق!
لکنل کاد واقعی ایسا ہے؟ کاب ہم بغرق مذہبی اور رازدارانہ انداز اختاجر کےا، معاملے کی جڑ اور تجرباتی حقائق تک پہنچ سکتے ہںا؟ شکر ہے جواب بالکل ہاں ہے۔ ہو سکتا ہے آپ مرکی نسل، قوم یا ایمان سے نہ ہوں۔ مگر بعض چزایں اییا ہںر جنہںز سب سمجھتے ہںہ کہ وہ ان حدود یا طبقات کے باہر کھڑی ہںت۔ آپ مراے نظریات سے متفق نہ ہوں یا شاید "مرہے لوگوں” کو پسند بھی نہ کریں۔ مگر اگر مںا کہوں کہ "دو جمع دو چار ہوتے ہںس”، تو آپ مں سے اکثریت اسے غلط نہںر سمجھے گی۔ (ہنسئے مت؛ ایسے لوگ بھی ہوتے ہںل جو اس دعوے پر بحث کریں گے۔)

"تو ہم حقیقتاً کس طرح جان سکتے ہیں کہ قدیم انبیا واقعی حقیقی وقت میں موجود تھے؟”

جو سب سے بہتر جواب مںت مختلف نظریات اور عقائد رکھنے والے لوگوں کو دے سکتا ہوں وہ یہ ہے: مردِ مردار (ڈیڈ سی) اسکرولز کی تحققا کریں۔ یہ معاملہ آپ کے ایمان یا مردے ایمان، آپ کے ملک یا مراے ملک کا تصادم نہںو ہے۔ یہ ہمارے جدید زمانے مںک حقائق جاننے کے لحاظ سے سب سے زیادہ ییسم اور ٹھوس چزتوں مںد سے ایک ہے۔
واقعہ یہ ہوا کہ 1947 مں ایک چرواہا لڑکا، جو اپنی بھڑ یں تلاش کر رہا تھا، مردِ مردار کے قریب اردن وادی مںہ ایک غار مں پتھر پھنکتا ہے اور کچھ ٹوٹنے کی آواز سنتا ہے۔ جب وہ غار مںہ جھپکتا ہے تو اسے قدیم مٹی کے برتن ملتے ہںپ، جن مں سے کچھ مںل لکھے ہوئے اسکرولز موجود تھے۔ یوں ڈیڈ سی اسکرولز دریافت ہوئے۔ یہ اسکرولز لگ بھگ یسوع کے زمانے یینو دو ہزار سال پہلے کے وقت مں انہی غاروں مںں ان برتنوں مںچ رکھے گئے تھے۔ انہںد گذشتہ سو برسوں کی شاید سب سے اہم اور حرئان کن آرکا لوجکلھ دریافت سمجھا جاتا ہے۔
اور مںج یہاں واضح کر دوں کہ یہ معاملہ یہودیت، اسلام، مست مں، کموںنزم، ہندومت، بدھ مت یا کسی اور عقدڈے تک محدود نہں ہے۔ یہ کسی چزا جتنی ییع اور ٹھوس ہے — اس زمانے مںو حققتر جانچنے کے لےع۔ ان اسکرولز کی اہمتی کی وجہ یہ ہے کہ اُن مںک پرانے عہد نامے کی تقریباً ہر کتاب کے کم از کم حصے پائے گئے، سوائے کتابِ استر کے۔ کچھ کتابںا مکمل حالت مںچ بھی ملی ہں ، جسےا کتابِ یسعیاہ اور کتابِ استثنا۔
یہ وہ اصل مادی تحریریں ہںں جو دو ہزار سال پرانی ہں — نظر آنے والی، چھونے والی، بالکل قابلِ تصدیق اور دناہ بھر کے سائنسدانوں کے ذریعہ حققتک کے طور پر تسلمر شدہ؛ ان کے وجود کے حقائق پر کسی قسم کا حقیچن تنازعہ نہںا ہے۔ مزید یہ کہ جب ان قدیم متون کا موازنہ آج ہمارے پاس موجود بائبل کے عبرانی متون سے کاد گار تو وہ تقریباً مکمل طور پر اسی طرح سے مطابقت رکھتے تھے جسا کہ آج ہم نے صحفوںں کو حاصل کا ہے۔
لہٰذا اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ قدیم انباا محض دیومالی کہاناہں ہںن، جو سنکڑ وں بار ترجمہ ہونے کے بعد مکمل طور پر بے وقعت ہو چکی ہںں، تو مںا آپ سے کہوں گا کہ خود ڈیڈ سی اسکرولز کی تحققی کریں۔ مجھے ینل ہے کہ آپ کی زبان مںک بھی سائنسی اعتبار سے معتبر ذرائع موجود ہوں گے جو ان باتوں کی بہت تفصلہ سے وضاحت کرتے ہںآ۔
آپ قدیم انبای کی باتںں پسند نہ کریں — شاید گزشتہ 70 سال کی مشرقِ وسطیٰ کی کشمکش کی وجہ سے آپ کا یہودیت کے بارے مںے شدید تعصب ہو۔ مگر اگر آپ سچا تلاش کنندہ ہں اور سچائی، خالص اور حقیتں سچائی تلاش کرتے ہںش جو ابراہم کے خدا یینق سچائی کے خدا سے آتی ہو، تو مںج آپ سے کہوں گا کہ تحققے کریں اور معلوم کریں کہ کاے خدا کے قدیم انبائ حققتی مںئ موجود تھے۔ خدا آپ کے تلاشِ سچائی مںہ برکت دے۔ یسوع نے کہا، "مانگو تو تُم کو دِیا جائے گا۔"۔ (متی 7:7)

  • Page 1
  • Page 2
  • Next »

اس سائٹ کی ہمراہ سائٹ

پر، MarkMcMillion.com اس سائٹ کی ہمراہ سائٹ، میں اپنی ذاتی زندگی، نظریات اور تجربات کے بارے میں لکھتا ہوں، نیز وہ اسباق جو خداوند نے مجھے سکھائے ہیں اور وہ باتیں بھی جو میں نے اپنے قریب اور دور کے دوستوں سے سنی ہیں۔

Sign Up for Newsletter

Follow Mark

Copyright © 2025 · Website by Stormhill Media Log in