(متی 5:1) “اور جب اُس نے ہجوم کو دیکھا تو پہاڑ پر چڑھ گیا، اور جب وہ بیٹھ گیا تو اُس کے شاگرد اُس کے پاس آئے۔” یسوع نے اتنے بڑے ہجوم کو چھوڑ کر پہاڑ پر کیوں چڑھائی کی، جب اُس کے پاس اتنے لوگ موجود تھے؟ کیوں یہ نہیں لکھا کہ ہجوم اُس کے پاس آیا؟ کیا اس بات میں کوئی معنی پوشیدہ ہے کہ صرف اُس کے شاگرد ہی اُس کے پیچھے گئے؟
ظاہری طور پر یہ آیت عام سی معلوم ہوتی ہے، مگر غور سے دیکھنے پر اس میں ایک گہرا سبق پوشیدہ ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں ہجوم تو بہت رہا ہے—وہ لوگ جو یسوع میں محض دلچسپی لیتے ہیں—مگر اُن میں سے چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو حقیقت میں اُسے پہچانتے ہیں، اُسے قبول کرتے ہیں اور اُس کے ساتھ پہاڑ پر چڑھ جاتے ہیں۔ یہ منظر دو ہزار سالہ انسانی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ تقسیم صرف متی باب 5 میں نہیں دکھائی دیتی؛ انجیل یوحنا کے چھٹے باب میں بھی یہی فرق نمایاں ہے۔ وہاں یسوع نے پانچ ہزار مردوں (عورتوں اور بچوں کے علاوہ) کو معجزانہ طور پر چند روٹیوں اور مچھلیوں سے کھلایا۔ اُس کے بعد لوگوں نے اُسے زبردستی بادشاہ بنانے کی کوشش کی۔ اگلے دن وہی لوگ دوبارہ اُس کی تلاش میں سمندر پار جا پہنچے۔
مگر یسوع کبھی بھی ہجوم کے پیچھے نہیں بھاگا۔ اُس نے اُنہیں صاف صاف کہا، (یوحنا 6:53) “جب تک تم میرا گوشت نہ کھاؤ اور میرا خون نہ پیو، تم میں زندگی نہیں۔” یہ بات سن کر بہت سے لوگ واپس چلے گئے۔ جیسا کہ لکھا ہے، (یوحنا 6:66) “اس وقت سے اُس کے بہت سے شاگرد واپس چلے گئے اور اُس کے ساتھ نہ رہے۔” یوں لگتا ہے کہ اُس وقت یسوع کے پاس چند ہی لوگ باقی رہ گئے—صرف بارہ شاگرد اور شاید کچھ اور۔
آپ سوچ سکتے ہیں: “کیا یسوع نہیں چاہتا تھا کہ سب اُس پر ایمان لائیں؟ کیا وہ سب سے محبت نہیں کرتا تھا؟”
ہاں، مگر اصل سبق یہی ہے—ایمان لانے اور پیروی کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بہت سے لوگ یسوع کو دلچسپ شخصیت سمجھتے تھے، کچھ اُس پر یقین بھی رکھتے تھے، مگر کم ہی ایسے تھے جو سچ مچ اُس کے پیچھے چلے۔ جب اُس نے معجزات کیے، مردوں کو زندہ کیا، اندھوں کو بینائی دی، تب بھی اُس کے آسمان پر چڑھنے کے بعد صرف ایک سو بیس شاگرد بالا خانے میں جمع تھے (اعمال 1:15)۔
تو سوال وہی ہے: ہجوم یا شاگرد؟ آج بھی کیا یہی فرق نہیں؟ ہجوم بہت ہے—ایمان لانے والے، مگر عمل نہ کرنے والے۔ مگر شاگرد بہت کم ہیں—وہ جو اُس کے کلام پر چلتے ہیں، اپنی خواہشات کو قربان کرتے ہیں، اور خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔
جیسا کہ لکھا ہے: (اعمال 11:26) “شاگردوں کو پہلے انطاکیہ میں مسیحی کہا گیا۔” یعنی ابتدا میں “مسیحی” وہی تھے جو شاگرد تھے—عمل کرنے والے، پیروی کرنے والے، نہ کہ صرف سننے والے۔ یسوع آج بھی ہجوم سے محبت رکھتا ہے، مگر وہ اُنہیں دعوت دیتا ہے جو اُس کے ساتھ پہاڑ پر چڑھنے کو تیار ہیں—جہاں وہ اُنہیں اپنی قیمتی باتیں سکھاتا ہے اور اُنہیں معمولی زندگی سے بلند کرتا ہے۔
اُس نے کہا، (متی 9:37) “فصل تو بہت ہے مگر مزدور تھوڑے ہیں۔” آج بھی یہی سچ ہے۔ ایمان لانے والے بہت ہیں، مگر سچے شاگرد—جو اُس کے کلام پر عمل کرتے ہیں—بہت کم۔ بہت ہی کم۔
جواب دیں